قُلْ
مَنْ
یَّرْزُقُكُمْ
مِّنَ
السَّمَآءِ
وَالْاَرْضِ
اَمَّنْ
یَّمْلِكُ
السَّمْعَ
وَالْاَبْصَارَ
وَمَنْ
یُّخْرِجُ
الْحَیَّ
مِنَ
الْمَیِّتِ
وَیُخْرِجُ
الْمَیِّتَ
مِنَ
الْحَیِّ
وَمَنْ
یُّدَبِّرُ
الْاَمْرَ ؕ
فَسَیَقُوْلُوْنَ
اللّٰهُ ۚ
فَقُلْ
اَفَلَا
تَتَّقُوْنَ
۟
(اے نبی ! ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچاتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں ؟ اور کون ہے جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے اور کون ہے تدبیرِ اَمر کرنے والا ؟ تو وہ کہیں گے اللہ ! تو آپ ﷺ فرمائیے کہ کیا پھر تم (اس اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭…
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا» [80-عبس:27-31] ” ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے بارش کون بر
اللہ کی الوہیت کے منکر ٭٭…
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ «فَأَنبَتْنَا فِيهَا ح