آیات:
135
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورۃ نازل کی گئی تاکہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جائے، یہ بیان کرتے ہوئے کہ آپ کے حالات حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کے حالات سے مشابہت رکھتے ہیں۔اس سورت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی وحی اور قیامت کے برحق ہونے کو ثابت کرنا ہے۔ اس کے لیے حضرت موسیٰؑ کی زندگی، خصوصاً فرعون کے ساتھ ان کے مقابلے، ایمان والوں کی نجات اور دشمنوں کی ہلاکت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ سورت خاص طور پر اس بات کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ قرآن کو ہدایت کے طور پر اور اس کے منکرین کے خلاف ایک فیصلہ کن دلیل کے طور پر بھیجا گیا ہے۔
زمانہ: اکثریت کے مطابق یہ مکمل طور پر مکی ہے؛ چند آیات کے مدنی ہونے کے دعوے غیر تسلی بخش ہیں۔
سیاق و سباق: یہ مکی دور کے آغاز میں، نبوت کے پانچویں سال میں حضرت عمر بن خطاب کے قبولِ اسلام سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کا نزول حبشہ کی پہلی ہجرت سے کچھ عرصہ قبل بنتا ہے۔
ترتیبِ نزول: جابر بن زید کی زمانی ترتیب میں اسے نزول کے اعتبار سے 45 ویں سورت شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ مریم کے بعد اور الواقعہ سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: اس سورت کا معروف نام "سورۂ طٰہٰ" ہے، جو اس کے ابتدائی دو حروف سے ماخوذ ہے۔ حضرت موسیٰؑ کا واقعہ تفصیل سے بیان ہونے کی وجہ سے اسے "سورۂ موسیٰ" اور "سورۂ کلیم" بھی کہا جاتا ہے (حضرت موسیٰؑ وہ نبی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے براہِ راست کلام فرمایا)۔
آیات کی تعداد: 135 (کوفی)، 134 (مدینہ/مکہ)، یا 140 (شام)۔