قَالَتْ
رُسُلُهُمْ
اَفِی
اللّٰهِ
شَكٌّ
فَاطِرِ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ؕ
یَدْعُوْكُمْ
لِیَغْفِرَ
لَكُمْ
مِّنْ
ذُنُوْبِكُمْ
وَیُؤَخِّرَكُمْ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
مُّسَمًّی ؕ
قَالُوْۤا
اِنْ
اَنْتُمْ
اِلَّا
بَشَرٌ
مِّثْلُنَا ؕ
تُرِیْدُوْنَ
اَنْ
تَصُدُّوْنَا
عَمَّا
كَانَ
یَعْبُدُ
اٰبَآؤُنَا
فَاْتُوْنَا
بِسُلْطٰنٍ
مُّبِیْنٍ
۟
ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا تم لوگوں کو اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ (اللہ) تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور ایک وقت معین تک تمہیں مہلت دے انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہیں آپ لوگ مگر ہماری ہی طرح کے انسان آپ چاہتے ہیں کہ روک دیں ہمیں ان (کی پرستش) سے جن کو پوجتے تھے ہمارے آباء تو لائیے آپ ہمارے سامنے کوئی کھلا معجزہ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭…
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبو
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭…
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں