فَاِذَا
بَلَغْنَ
اَجَلَهُنَّ
فَاَمْسِكُوْهُنَّ
بِمَعْرُوْفٍ
اَوْ
فَارِقُوْهُنَّ
بِمَعْرُوْفٍ
وَّاَشْهِدُوْا
ذَوَیْ
عَدْلٍ
مِّنْكُمْ
وَاَقِیْمُوا
الشَّهَادَةَ
لِلّٰهِ ؕ
ذٰلِكُمْ
یُوْعَظُ
بِهٖ
مَنْ
كَانَ
یُؤْمِنُ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ ؕ۬
وَمَنْ
یَّتَّقِ
اللّٰهَ
یَجْعَلْ
لَّهٗ
مَخْرَجًا
۟ۙ
پھر جب وہ اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو (اپنے نکاح میں) روک رکھو معروف طریقے سے یا جدا کردو معروف طریقے سے اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔ یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عائلی قوانین ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں
عائلی قوانین ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو