آیات:
78
نزول وحی کی جگہ:
مدینہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورت اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کی وحدانیت کو بیان کرتی ہے، اور انسان اور کائنات کی تخلیق کے ذریعے قیامت کے یقینی وقوع کو ثابت کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اللہ کی بے شمار نعمتوں کا ذکر کرکے انسانوں اور جنات کو یہ چیلنج دینا ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں، اس کی وحدانیت اور آنے والی جزا و سزا کی حقیقت کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔
دور: اکثر صحابہ اور تابعین کے مطابق مکی ہے، اگرچہ کچھ نے بیان کیا کہ یہ صلحِ حدیبیہ کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی تھی۔
سیاق و سباق: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین اللہ تعالیٰ کے نام "الرحمٰن" کا انکار کر رہے تھے، جیسا کہ سورۃ الفرقان (25:60) میں مذکور ہے۔ یہ مکی دور کے ابتدائی مرحلے میں نازل ہوئی، یہاں تک کہ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے اسے مکہ میں اس وقت سنا جب اعلانیہ دعوت کا حکم ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا تھا۔
ترتیبِ نزول: علامہ ابنِ عاشور کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ یہ نزولِ وحی کے اعتبار سے 43ویں سورت ہے، جو سورۃ الفرقان کے بعد اور سورۃ فاطر سے پہلے نازل ہوئی۔ البتہ علامہ جعبری کی مشہور ترتیب، جو اسے مدنی سورت قرار دیتی ہے، کے مطابق یہ 93ویں نازل ہونے والی سورت ہے۔
نام: "سورۃ الرحمن"، یہ واحد سورہ ہے جو اللہ کے ناموں میں سے ایک نام سے شروع ہوتی ہے۔ اسے نبی کریم (ﷺ) کی ایک حدیث کی بنیاد پر "عروس القرآن" کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔
منفرد خصوصیت: یہ جملہ "تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟" 31 بار دہرایا گیا ہے۔
آیات کی تعداد: 77 آیات (مدینہ/مکہ کے مطابق) یا 78 (شام/کوفہ کے مطابق)۔