قُلْ
اَطِیْعُوا
اللّٰهَ
وَاَطِیْعُوا
الرَّسُوْلَ ۚ
فَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَاِنَّمَا
عَلَیْهِ
مَا
حُمِّلَ
وَعَلَیْكُمْ
مَّا
حُمِّلْتُمْ ؕ
وَاِنْ
تُطِیْعُوْهُ
تَهْتَدُوْا ؕ
وَمَا
عَلَی
الرَّسُوْلِ
اِلَّا
الْبَلٰغُ
الْمُبِیْنُ
۟
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی پھر اگر تم منہ موڑتے ہو تو سن رکھو کہ ہمارے نبی ﷺ پر صرف وہی ذمہ داری ہے جو ان ﷺ پر ڈالی گئی ہے اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے اور اگر تم ان ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو گے تو تبھی تم ہدایت یافتہ ہو گے۔ اور (ہمارے) رسول ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے صاف صاف پہنچا دینے کے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مکار منافق ٭٭…
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بے قرار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھربار بال بچے چھوڑ کر میدان
مکار منافق ٭٭…
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا ک