وَلَوْلَا
فَضْلُ
اللّٰهِ
عَلَیْكَ
وَرَحْمَتُهٗ
لَهَمَّتْ
طَّآىِٕفَةٌ
مِّنْهُمْ
اَنْ
یُّضِلُّوْكَ ؕ
وَمَا
یُضِلُّوْنَ
اِلَّاۤ
اَنْفُسَهُمْ
وَمَا
یَضُرُّوْنَكَ
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
وَاَنْزَلَ
اللّٰهُ
عَلَیْكَ
الْكِتٰبَ
وَالْحِكْمَةَ
وَعَلَّمَكَ
مَا
لَمْ
تَكُنْ
تَعْلَمُ ؕ
وَكَانَ
فَضْلُ
اللّٰهِ
عَلَیْكَ
عَظِیْمًا
۟
اور (اے نبی ﷺ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ ﷺ کے شامل حال نہ ہوتی تو ان (منافقین) کا ایک گروہ تو اس پر تل گیا تھا کہ آپ کو گمراہ کر دے اور حقیقت میں وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور (اے نبی ﷺ وہ آپ ﷺ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے اور حکمت بھی اور آپ ﷺ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ ﷺ نہیں جانتے تھے اور یقیناً اللہ کا فضل ہے آپ ﷺ پر بہت بڑا۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
اس کے بعد کی «وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [4-النساء:113] کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے یعنی سیدنا لبید بن عروہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بنوابیرق کے چوروں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وس
باب…
اس کے بعد کی «وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ»