مَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِیَذَرَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
عَلٰی
مَاۤ
اَنْتُمْ
عَلَیْهِ
حَتّٰی
یَمِیْزَ
الْخَبِیْثَ
مِنَ
الطَّیِّبِ ؕ
وَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِیُطْلِعَكُمْ
عَلَی
الْغَیْبِ
وَلٰكِنَّ
اللّٰهَ
یَجْتَبِیْ
مِنْ
رُّسُلِهٖ
مَنْ
یَّشَآءُ ۪
فَاٰمِنُوْا
بِاللّٰهِ
وَرُسُلِهٖ ۚ
وَاِنْ
تُؤْمِنُوْا
وَتَتَّقُوْا
فَلَكُمْ
اَجْرٌ
عَظِیْمٌ
۟
اللہ وہ نہیں کہ چھوڑے رکھے مسلمانوں کو اس حالت میں جس پر تم ہو یہاں تک کہ وہ خبیث کو طیب سے ممیز کر دے اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی طریقہ نہیں ہے کہ تمہیں غیب کی خبریں بتائے لیکن (اس کام کے لیے) اللہ منتخب کرلیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے پس ایمان پختہ رکھو اللہ پر اور اس کے رسولوں ؑ پر اور اگر تم (یہ دو شرطیں پوری کر دو گے) ایمان میں ثابت قدم رہو گے اور تقویٰ پر کاربند رہو گے تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭…
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرم
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭…
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر