یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
شَهَادَةُ
بَیْنِكُمْ
اِذَا
حَضَرَ
اَحَدَكُمُ
الْمَوْتُ
حِیْنَ
الْوَصِیَّةِ
اثْنٰنِ
ذَوَا
عَدْلٍ
مِّنْكُمْ
اَوْ
اٰخَرٰنِ
مِنْ
غَیْرِكُمْ
اِنْ
اَنْتُمْ
ضَرَبْتُمْ
فِی
الْاَرْضِ
فَاَصَابَتْكُمْ
مُّصِیْبَةُ
الْمَوْتِ ؕ
تَحْبِسُوْنَهُمَا
مِنْ
بَعْدِ
الصَّلٰوةِ
فَیُقْسِمٰنِ
بِاللّٰهِ
اِنِ
ارْتَبْتُمْ
لَا
نَشْتَرِیْ
بِهٖ
ثَمَنًا
وَّلَوْ
كَانَ
ذَا
قُرْبٰی ۙ
وَلَا
نَكْتُمُ
شَهَادَةَ ۙ
اللّٰهِ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّمِنَ
الْاٰثِمِیْنَ
۟
اے اہل ایمان تمہارے درمیان شہادت (کا نصاب) ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو تو تم میں سے دو معتبر اشخاص (بطور گواہ) موجود ہوں تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو اور نہ ہم چھپائیں گے اللہ کی گواہی کو اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
معتبر گواہی کی شرائط ٭٭…
بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اثْنَیْنِ» ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کر دیا گیا ہے یعنی «اَنْ یَّشْهَدَ اِثْنَان
معتبر گواہی کی شرائط ٭٭…
بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اث