وَاِذْ
قُلْنَا
لَكَ
اِنَّ
رَبَّكَ
اَحَاطَ
بِالنَّاسِ ؕ
وَمَا
جَعَلْنَا
الرُّءْیَا
الَّتِیْۤ
اَرَیْنٰكَ
اِلَّا
فِتْنَةً
لِّلنَّاسِ
وَالشَّجَرَةَ
الْمَلْعُوْنَةَ
فِی
الْقُرْاٰنِ ؕ
وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ
فَمَا
یَزِیْدُهُمْ
اِلَّا
طُغْیَانًا
كَبِیْرًا
۟۠
اور جب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب نے لوگوں کا احاطہ کیا ہوا ہے اور نہیں بنایا ہم نے اس مشاہدے کو جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا مگر ایک فتنہ لوگوں کے لیے اور اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت وارد ہوئی ہے اور (ان باتوں سے) ہم تو انہیں تنبیہہ کرتے ہیں مگر یہ تنبیہہ ان کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مقصد معراج…
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں، وہ سب پر غالب ہے، سب اس کے ماتحت ہیں، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے۔ یہ دکھانا مع
مقصد معراج…
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قد