آیات:
31
نزول وحی کی جگہ:
مدینہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ سورت انسانیت کی تخلیق اور قیامت کی ضرورت کو مخاطب کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دو راستوں (شکر گزار اور ناشکری) کے درمیان فرق کرنا ہے،جس میں نیک لوگوں کے ابدی انعامات اور روحانی مرتبے کو بیان کرنے پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ نبی کریم (ﷺ) کو کافروں کے انکار کے باوجود ثابت قدم رہنے، صبر کرنے، اور پیغام پہنچانے میں ثابت قدم رہنے کا حکم دیتی ہے۔
دور: سب سے زیادہ مستند رائے کے مطابق مکی ہے۔
سیاق و سباق: اس کا انداز اور موضوعات مکمل طور پر مکی ہیں، جو توحید، تخلیق اور قیامت کے انکار کے گرد گھومتے ہیں۔
ترتیبِ نزول: اسے نزول کی ترتیب میں سورۃ المرسلات سے ٹھیک پہلے رکھا گیا ہے۔
نام: یہ سورہ کئی ناموں سے جانی جاتی ہے: پہلی آیت کے الفاظ کی وجہ سے "سورۃ الانسان" (انسان) اور "سورۃ الدھر" (زمانہ)، اور ساتھ ہی اپنے ابتدائی جملے کی وجہ سے: "سورۃ هَلْ أَتَىٰ"۔ آیت 2 میں اس لفظ کی وجہ سے اسے "سورۃ الامشاج" اور آیت 5 کی وجہ سے "سورۃ الابرار" بھی کہا گیا ہے۔
فضیلت: نبی کریم (ﷺ) عادتاً جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (سورۃ السجدہ کے ساتھ) اس سورہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
آیات کی تعداد: متفقہ طور پر 31 آیات۔