اِنَّ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
وَاَقَامُوا
الصَّلٰوةَ
وَاٰتَوُا
الزَّكٰوةَ
لَهُمْ
اَجْرُهُمْ
عِنْدَ
رَبِّهِمْ ۚ
وَلَا
خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ
وَلَا
هُمْ
یَحْزَنُوْنَ
۟
ہاں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے «قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَو
سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و