یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
كُتِبَ
عَلَیْكُمُ
الْقِصَاصُ
فِی
الْقَتْلٰی ؕ
اَلْحُرُّ
بِالْحُرِّ
وَالْعَبْدُ
بِالْعَبْدِ
وَالْاُ
بِالْاُ ؕ
فَمَنْ
عُفِیَ
لَهٗ
مِنْ
اَخِیْهِ
شَیْءٌ
فَاتِّبَاعٌ
بِالْمَعْرُوْفِ
وَاَدَآءٌ
اِلَیْهِ
بِاِحْسَانٍ ؕ
ذٰلِكَ
تَخْفِیْفٌ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ
وَرَحْمَةٌ ؕ
فَمَنِ
اعْتَدٰی
بَعْدَ
ذٰلِكَ
فَلَهٗ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
اے اہل ایمان ! تم پر لازم کردیا گیا ہے مقتولوں کا بدلہ لینا اور غلام غلام کے بدلے اور عورت عورت کے بدلے پھر جس کو معاف کردی جائے کوئی شے اس کے بھائی کی جانب سے تو (اس کی) پیروی کی جائے معروف طریقے پر اور ادائیگی کی جائے خوبصورتی کے ساتھ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک تخفیف اور رحمت ہے تو اس کے بعد بھی جو حد سے تجاوز کرے گا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قصاص کی وضاحت ٭٭…
یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے کہ اگلے لوگ حد سے بڑھ گئے اور اللہ کا حکم بدل دیا، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بنو قریظہ اور بنونضیر کی جنگ ہوئی تھی جس میں بنونضیر
قصاص کی وضاحت ٭٭…
یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے ک