قَدْ
نَرٰی
تَقَلُّبَ
وَجْهِكَ
فِی
السَّمَآءِ ۚ
فَلَنُوَلِّیَنَّكَ
قِبْلَةً
تَرْضٰىهَا ۪
فَوَلِّ
وَجْهَكَ
شَطْرَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ ؕ
وَحَیْثُ
مَا
كُنْتُمْ
فَوَلُّوْا
وُجُوْهَكُمْ
شَطْرَهٗ ؕ
وَاِنَّ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
لَیَعْلَمُوْنَ
اَنَّهُ
الْحَقُّ
مِنْ
رَّبِّهِمْ ؕ
وَمَا
اللّٰهُ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
یَعْمَلُوْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) بلاشبہ ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھتے رہے ہیں سو ہم پھیرے دیتے ہیں آپ کو اسی قبلے کی طرف جو آپ کو پسند ہے تو بس اب پھیر دیجیے اپنے رخ کو مسجد حرام کی طرف ! اور (اے مسلمانو !) جہاں کہیں بھی تم ہو اَب اپنا چہرہ (نماز میں) اسی کی طرف پھیرو۔ اور یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا حکم) حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو وہ کر رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خشوع و خضوع ضروری ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قرآن میں قبلہ کا حکم پہلا نسخ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہاں کے اکثر باشندے یہود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھنے کا حکم دیا یہود اس سے بہت خوش ہوئے۔ آپ صلی ال
خشوع و خضوع ضروری ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قرآن میں قبلہ کا حکم پہلا نسخ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت ک