وَكَذٰلِكَ
جَعَلْنٰكُمْ
اُمَّةً
وَّسَطًا
لِّتَكُوْنُوْا
شُهَدَآءَ
عَلَی
النَّاسِ
وَیَكُوْنَ
الرَّسُوْلُ
عَلَیْكُمْ
شَهِیْدًا ؕ
وَمَا
جَعَلْنَا
الْقِبْلَةَ
الَّتِیْ
كُنْتَ
عَلَیْهَاۤ
اِلَّا
لِنَعْلَمَ
مَنْ
یَّتَّبِعُ
الرَّسُوْلَ
مِمَّنْ
یَّنْقَلِبُ
عَلٰی
عَقِبَیْهِ ؕ
وَاِنْ
كَانَتْ
لَكَبِیْرَةً
اِلَّا
عَلَی
الَّذِیْنَ
هَدَی
اللّٰهُ ؕ
وَمَا
كَانَ
اللّٰهُ
لِیُضِیْعَ
اِیْمَانَكُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
بِالنَّاسِ
لَرَءُوْفٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اور (اے مسلمانو !) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر (اے نبی !) آپ پہلے تھے مگر یہ جاننے کے لیے (یہ ظاہر کرنے کے لیے) کہ کون رسول ﷺ کا اتباع کرتا ہے اور کون پھرجاتا ہے الٹے پاؤں ! اور یقیناً یہ بہت بڑی بات تھی مگر ان کے لیے (دشوار نہ تھی) جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ہرگز تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ انسانوں کے حق میں بہت ہی شفیق اور بہت ہی رحیم ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں وسط کے معنی یہاں پر بہتر اور عمدہ کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط عرب ہیں اور کہا گیا ہے حضور صلی ا
باب…
پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ