آیات:
20
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
Adapted from Tafsir Ibn Ashur
یہ مکی سورت اس شہر کی قسم سے آغاز ہوتی ہے تاکہ نبی کریم (ﷺ) کی تکالیف اور اس حقیقت کو واضح کیا جائے کہ انسان کو مشقت اور آزمائش میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ان مال دار لوگوں کی سرزنش کرنا ہے جو قیامت کا انکار کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات نہیں کرتے، جبکہ حقیقی نجات کا راستہ ایمان، ہمدردی اور نیکی کی دشوار گھاٹی کو عبور کرنے میں ہے۔
دور: علماء کے اجماع (اتفاق) کے مطابق مکی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورہ مکہ کے مالداروں کے غرور کا مقابلہ کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی جو اپنی سخاوت پر فخر کرتے تھے (جب وہ ذاتی برائیوں یا قبائلی عزت پر خرچ کرتے تھے)، جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے تھے اور غریبوں کو نظر انداز کرتے تھے۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 35 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ ق کے بعد اور الطارق سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: یہ سورہ دو بنیادی ناموں سے جانی جاتی ہے: "سورۃ البلد" اور اپنے ابتدائی الفاظ کی وجہ سے "سورۃ لا أقسم"۔
آیات کی تعداد: متفقہ طور پر 20 آیات۔